ذیابیطس کی قسمیں

ذیابیطس کئی قسم کی ہو سکتی ہیں۔ لیکن اسکی جتنی بھی قسمیں ہوں ، اُن میں ایک بات مشترک ہوتی ہے ، اور وہ یہ کہ ذیابیطس کی تمام اقسام میں خون کی شوگر نارمل سے ذیادہ ہوتی ہے۔

ذیابیطس کی اقسام میں سے مندرجہ ذیل اہم اورزیادہ عام ہیں

ذیابیطس قسم اول

پرانے زامانے میں اسے بچپن یا کم عمری کی شوگربھی کہا جاتا تھا۔اس میں لبلہ انسولین بنانا بند کردیتا ہے، اور یہ کمی اتنی تیزی سے پیدا ہوتی ہے، کہ دنوں اور ہفتوں میں ہی مریض شدید بیمارہو جاتا ہے۔ اس میں بیماری کی علامات بہت شدید ہوتی ہیں اورعام طور پر تشخیص ہونے میں دیرنہیں لگتی۔ ذیابیطس کی اس قسم کا علاج روز اول سے ہی انسولین کے ٹیکوں سے کرنا پڑتا ہے۔ پاکستان میں ذیابیطس قسم اول کے مریض بہت ہی کم ہیں، لیکن جو بچے اس مرض سے متاثرہیں اُن کے علاج میں مہارت رکھنے والے افراد بہت ہی کم ہیں۔ ذیابیطس قسم اول کا علاج ہمیشہ کسی ماہر سے کروانا چاہئے۔دی ڈائیابیٹس سنٹر ۔ پاکستان کے اسلام آباد مرکز میں اس قسم کے علاج کی خصوصی سہولیات موجود ہیں ۔جہاں ضرورت مند افراد کو مفت علاج کی سہولت فراہم کی گئی ہے ۔

ذیابیطس قسم دوم

یہ ذیابیطس کی سب سے زیادہ عام قسم ہے۔ پاکستان میں ذیابیطس والے افرادمیں سے 95 فیصد لوگ ذیابیطس کی اسی قسم سے متاثر ہیں۔ ذیابیطس قسم دوم زیادہ تر بالغ افراد کو ہوتی ہے اسی لئے کچھ عرصہ پہلے تک اسے بڑی عمر کی ذیابیطس بھی کہا جاتا تھا۔لیکن اب ہم جانتے ہیں کہ ذیابیطس قسم دوم عمر کے کسی بھی حصے میں ہو سکتی ہے۔

ذیابیطس کی اس قسم کے بارے میں سب سے اہم بات ہے کہ اسکی بنیادی وجہ انسولین کا بے اثر ہو جانا ہے۔ یعنی آپکا لبلہ جو انسولین پیدا کرتا ہے، وہ اپنا اثر دکھانے میں ناکام رہتی ہے۔انسولین کی اس بے اثری پر قابو پانے کیلئے لبلہ مزید انسولین پیدا کرتا ہے، اور اسی طرح اپنی ہمت سے زیادہ کام کرتے کرتے، آخر کار لبلہ تھک جاتا ہے، اور انسولین کی بے اثری کے ساتھ انسولین کی کمی بھی واقع ہو جاتی ہے۔ اور خون میں شوگر بڑھنے لگتی ہے۔

انسولین کے بے اثر ی صرف شوگر ہی نہیں بڑھاتی، بلکہ یہ آپ کے لئے کُچھ اور خطرات بھی پید اکرتی ہے۔

حمل کی ذیابیطس

اگر کسی ایسی عورت کو حمل کے دوران ذیابیطس ہو جائے، جسے حمل سے پہلے ذیایطس  نہیں تھی، تو اسے حمل کی ذیابیطس کہا جاتا ہے۔