یہ قسم کسی بھی فرد کوعُمر کے درمیانی حصّے کے بعد متاثر کرتی ہے۔ ذیابطیس کی عمومی علامات میں بار بار پیاس لگنا، پیشاب کی زیادتی، کم زوری، سُستی، کام میں دِل نہ لگنا، مختلف اعضاء میں درد، ہاتھوں پیروں میں جلن کا احساس، نظر کا دھندلانا، وزن کم ہونا (گرچہ خوراک زیادہ ہو)، ہاتھوں پیروں کا سُن ہونا یا ان میں احساس کم ہونا اور زخموں کا تاخیر سے مندمل ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ ذیا بطیس کا ٹیسٹ بہت آسان ہی نہیں، سستا بھی ہے،جو خون کےنمونےسے کیا جاتا ہے۔ یہ مرض صرف لبلبے ہی کو متاثر نہیں کرتا، بلکہ جسم کے دیگر اعضاء بھی اس کی لپیٹ میں آجاتے ہیں، کیوں کہ خون میں موجود گلوکوز(شکر) جسمانی اعضاء اور خلیات تک پہنچ نہیں پاتا اور درست طور پر تحلیل نہ ہونے کی صورت میں توانائی بھی پیدا نہیں کرتا

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان میں 26فی صد افراد ذیابطیس کا شکار اور19 فی صد اپنے مرض سے لاعلم ہیں،جب کہ ایک بہت بڑی تعداد علاج معالجے کے معاملے میں لاپروائی برتتی ہے۔ نیز، تقریباً 35سے 40ملین بچّے بھی(20سال سے کم عُمر)اس مُوذی مرض میں مبتلا ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میںذیابطیس کے مریضوں کی تعداد کے اعتبار سےپاکستان ساتواں بڑا مُلک ہے اور اگر مناسب اقدامات نہ کیے گئے، حفاظتی اور احتیاطی تدابیر نہ اپنائی گئیں، تو خطرہ ہے کہ2030 ءتک یہ چوتھا بڑامُلک بن جائے گا۔۔