ذیابیطس کے ہسپتال کے لئے پاکستانی ڈاکٹر کی جدوجہد

ابو ظہبی: اب سے چھ سال سے زیادہ عرصے سے ، ابو ظہبی سے تعلق رکھنے والے ڈائیبٹلوجسٹ ڈاکٹر اسجد حمید ایک مشنری جزبے کے ساتھ اس روٹین پرعمل پیرا ہیں: ہفتہ کے پانچ کام کے دِن امارات میں اور دو دن کا اختتام اسلام آباد، پاکستان میں۔

وہ وہاں اپنے خواب یعنی ایک رفاہی ذیابیطس ہسپتال کے تعمیر کی نگرانی اور ایک پائلٹ کلینک میں مریضوں کے علاج کے لئے سفر کرتے ہیں ۔ دوستوں کی  مدد سے، ڈاکٹر اسجد حمید جنوبی ایشیا کا پہلا اپنی نوعیت کا ذیابیطس ہسپتال تعمیر کررہے ہیں جو غریب ذیابیطس کے مریضوں کو مفت علاج اور آگاہی تعلیم فراہم کرے گا ۔ وہ سات سال سے اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہچانے میں دن رات محنت کررہے ہیں۔

“تقریبا ہر روز درجنوں ورکزز، خاص طور پر ٹیکسی ڈرائیورز، مجھ سے طبی مشورہ کے لئے مسجد میں رجوع کرتے ہیں” ڈاکٹر اسجد حمید نے عرب نیوز کو بتایا کہ “کم از کم نوے فیصد پاکستانی ٹیکسی ڈرائیورز متحدہ عرب امارات میں اپنے کام، ذہنی دباؤ اور منفی طرز زندگی کی وجہ سے ذیابیطس کے مرض کا شکار ہیں ۔ اور یہ میرے لئے یہ بات ایک فکریہ لمحہ تھی”۔

منصوبے کی ابتدا

۔2011ء وہ سال ہے جب  ہم نے اس منصوبے کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا ۔  موسم سرما میں صبح کی واک کے دوران، انہوں نے پاکستان میں اِس طرح کے ہسپتال کے قیام کے اِس خیال کو دو قریبی دوستوں کے ساتھ شیئر کیا ۔ اُس وقت سے اب تک انہوں نے پیچھے مڑ کے نہیں دیکھا ۔

انہوں نے کہا کہ “ہم نے اِس منصوبے کو چار قریبی دوستوں کے ساتھ شروع کیا، اور اب ہم متحدہ عرب امارات میں کام کرنے والے پاکستانی ماہرین کی ایک بڑی ٹیم ہیں” ۔

” ہسپتال کی تعمیر کا 72 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے ۔ ہم امید کررہے ہیں، 2018 کے پہلی سہ ماہی میں ہسپتال کا پہلا مرحلہ آپریشنل ہو جائے گا.”

اسپتال میں بارہ مختلف محکمے ہوں گے جس میں  ذیابیطس اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والی جان لیوا پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا مریضوں کو جامع دیکھ بھال فراہم کی جائیں گی۔ ہسپتال ہر روز 600-800 مریضوں کی خدمت کرنے کے قابل ہو جائے گا ۔

پاکستان میں ذیابیطس

ڈاکٹر اسجد حمید کے بقول صدقہ گھر سے شروع ہوتا ہے، ہمیں اپنے گھر سے بہت دور جانے کی ضرورت نہیں کیونکہ پاکستان کا عالمی سطح پر ذیابیطس کے پھیلاؤ میں ٹاپ ٹین ممالک میں شمار ہوتا ہے ۔

انہوں نے مزید کہا کہ “ذیابیطس کے مرض اور اس بیماری سے اموات دنیا بھر میں اہم وجوہات میں سے ایک ہے ۔

۔”یہ اندھا پن، دل کی بیماری، گردے خراب ہو نے اور دیگر بہت سی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا ہونے کی اعلی شرح کے ساتھ جڑا ہوا ہے.”

یہ عالمی سطح پر سب سے زیادہ عام غیر کمیونیکیبل بیماریوں میں سے ایک ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ 2011 کے مطابق پاکستان میں ذیابیطس سے 13 ملین افراد متاثر ہیں اور بہت بڑی تعداد اپنی بیماری سے بے خبر ہیں ۔

ڈاکٹر اسجد حمید کے ایک اندازے کے مطابق دس میں سے ایک پاکستانی شوگر کا مریض ہے ۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارا خیال ہے کہ ہم سب پر اجتماعی ذمہ داری ہے کہ ہم ذیابیطس کی آگاہی، تعلیم اور صحت کی دیکھ بھال کی ترسیل کے ذریعے اپنی قوم کی صحت کو بہتر بنائیں”۔

موبائل کلینک

غریب لوگوں میں ذیابیطس کے مرض میں تیزی سے اضافے کے ساتھ، ڈاکٹر اسجد حمید کو احساس ہوا کہ ہسپتال کی تکمیل تک انتظار کرنا دانشمندی نہیں ہے ۔ تو وہ اور ان کی ٹیم نے ہنگامی بنیادوں پر اس مرض سے نپٹنے کے لئے ہسپتال کے قریب ایک پائلٹ کلینک فوری قائم کیا۔

۔2014 سے اب تک، گیارہ فل ٹائم اسٹاف، متعدد ماہر ڈاکٹروں کے دورے اور بیس امدادی عملے کی ٹیم نے 47,000 سے زائد مریضوں کا مفت علاج کیا ہے ۔ کلینک تقریباً 500 مریضوں فی ہفتہ علاج کرتا ہے.

لاگت

اب تک, 3.7 ملین ڈالر ہسپتال کے تعمیر کردہ ڈھانچے پر خرچ کیا جاچکا ہے ۔ اس منصوبے کو مکمل کرنے کے لئے اب بھی 2.5 ملین ڈالر کی اشد ضرورت ہے ۔

ڈاکٹر اسجد حمید نے کہا کہ “ایئر کنڈیشنگ, آئی ٹی نیٹ ورک اور فرنیچر کی تنصیب کا کام شروع ہوچکا ہے”۔ “منصوبہ خلیج میں مقیم پاکستانیوں کی حمایت کے ساتھ اس مقام تک پہنچ گیا ہے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ خلوص دل سے تارکین وطن، پاکستانی ہمیں ہسپتال وقت پر مکمل کرنے میں مدد جاری رکھیں گے۔

طبی سیاحت

انہوں نے مزید کہا کہ ہم اسٹیٹ آف آرٹ ہسپتال میں نہ صرف پاکستانیوں کی خدمات بلکہ ہر ایک کو بہتر علاج کی سہولیات فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہیں ۔

۔”ہم انسانیت پر یقین رکھتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم قومیت یا مریضوں کے عقیدے کے بارے میں پرواہ نہیں کرتے”۔

۔”ہم ہر اس شخص کو جو اِس خاموش قاتل بیماری میں مبتلا ہے اور ہم سے رابطہ کرتا ہے، کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔ ہم انہیں ذیابیطس سے لڑنے میں مدد فراہم کرتے ہیں”۔

ڈاکٹر اسجد حمید نے مزید کہا کہ”ہم پرعزم ہیں کہ اسپتال پاکستان میں طبی سیاحت ضرور لے کر آئے گا۔ افغانستان سے لوگ پہلے ہی ہمارے موبائل کلینک کا دورہ کر رہے ہیں اور ہم ان کی بہت اچھی دیکھ بھال کررہے ہیں ۔

آرٹیکل دیکھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

http://www.arabnews.com/node/1145331/world