چاول کا شوق اور ذیابیطس

ذیابیطس اور موٹاپابے حد عام امراض بنتے جا رہے ہیں ۔ موٹاپا نہ صرف باذاتِ خود ایک بیماری ہے بلکہ یہ کئی دیگر بیماریو ں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتی ہے۔ چاول کا استعمال ایشیائی ممالک میں بے حد عام ہے۔اس سے موٹاپے میں اضافہ ہوتا ہیا ور یہ ذیابیطس کے مرض میں بھی نقصان دہ ہے ۔ البتہ پھر بھی اگر چاول کا شوق ہو کہ ختم ہونے کا نام نہ لیتا ہو توچاول کے متعلق ان ضروری معلومات سے فائدہ حاصل کریں :
کاربوہائیڈریٹس کی کثیر تعداد 
چاول میں کاربوہائیڈریٹ کثیر تعداد میں موجود ہوتا ہے۔پکے ہوئے چاولوں کا ایک کپ جوکہ200 کیلوریز اور 45 گرام کاربوہائیڈریٹ پر مشتمل ہوتاہے اور اس ایک کپ میں پائے جانے والے کاربوہائیڈریٹس تین روٹیوں میں پائے جانے والے کاربوہائیڈریٹ کے برابر ہوتے ہیں۔
 چاول کی زیادہ تر اقسام آپکے جسم میں جاکر چینی میں تبدیل ہوکر چربی کی شکل میں محفوظ ہوجاتی ہیں اور خون میں شوگرکی سطح بڑھانے کے ساتھ ساتھ آپکی بھوک میں اضافہ کا باعث بنتی ہیں۔
بہت سے لوگ ایک وقت میں بآسانی دوکپ چاول یا اس سے بھی زیادہ کھا لیتے ہیں جو90گرام کاربوہائیڈریٹ پر مشتمل اور مقدار میں چھ روٹیوں کے برابر ہیں . روٹی کھانے کے شوقین افراد کے لئے یہ یقیناًخوشی کی بات ہوگی کہ وہ ایک وقت میں اگر دو روٹیاں بھی کھالیں تو اتنے کاربز نہیں لیتے جتنے چاول کے ایک کپ میں موجود ہو تا ہے ۔ دو کپ میں شامل 90 گرام کاربوہائیڈریٹ 22 چمچ چینی کے برابر ہوتے ہیں.یہ تمام چاول چینی میں تبدیل ہوکر نمایاں خون میں شکر کی سطح کو بڑھاتے ہیں۔
بھوک زیادہ لگنا
کاربوہائیڈریٹ کے علاوہ چاول اعلیٰ گلیسیمک انڈیکس پر مشتمل غذا ہے ۔یہ شوگر کی سطح میں تیزی سے اضافہ کا باعث بنتی ہے اور چاول کھانے کے بعد بھوک زیادہ لگتی ہے ۔روزانہ چاول کھانے سے موٹاپے میں اضافہ ہوتاہے۔ اپنے کھانے کی روٹین کی ایک ڈائری تیار کریں اور اس میں نوٹ کریں کہ مختلف اشیاء کھانے کے بعد آپکو مزید کتنی بھوک محسوس ہوئی، اسطرح آپکو چاول اور بڑھتی ہوئی بھوک کے درمیان تعلق کا بخوبی اندازہ ہوگا۔
باسمتی چاول کا استعمال
باسمتی چاول سفید ہوں یا براؤن انمیں گلیسیمک انڈیکس کم ہوتاہے، اگرچہ انمیں بھی کاربوہائیڈریٹ موجود ہوتاہے لیکن یہ فوری طور پر آپکے خون میں شکر کی سطح میں اضافہ نہیں کرتے۔اگر آپ چاول کھانے کی عادت کو ترک نہیں کرسکتے تو اپنے معمول میں استعمال ہونے والے چاولوں کی جگہ باسمتی چاول کا استعمال کریں اور اگر آپ ذیابیطس کے مریض یا وزن کم کرنے کے خواہش مند ہیں تو اپنے سرونگ سائز کو کم کریں۔
اپنی بھوک کو کنٹرول کرنے کے لئے چاول کے ہمراہ فائبر سے بھرپور، غیر نشاستہ دارسبزیاں جیسے پیاز، مشروم،لال شملہ مرچ، بروکلی، اور پھول گوبھی اور اسکے ساتھ ساتھ پروٹین کی مناسب مقدار جیسے مرغی اور مچھلی کے سا تھ آپ اپنی پلیٹ کو زیادہ بھرپور بناسکتے ہیں۔
 
چاول کی کیلوریز کم کرنے کا طریقہ
سائنسدانوں نے چاول بنانے کے ایسے طریقے ایجاد کئے ہیں جو شوگر اور موٹا پے میں مبتلا افراد کے لئے زیادہ بہتر ہے۔امریکن کیمیکل سوسائٹی نے اپنی ابتدائی تحقیق میں کہا،
’ چاول پکانے کے لیے پہلے پانی پکائیں۔ جب پانی میں ابال آنے لگے تو ایک کپ چاول شامل کرنے سے پہلے اس میں دو چمچ ناریل کا تیل شامل کریں اور جب وہ تیار ہوجائیں تو اسے بارہ گھنٹے کیلئے فرج میں ٹھنڈاہونے دیں۔اس طرح چاول کے نقصانات کو کافی حد تک کم کیا جا سکتا ہے’ ۔
یہ بات بڑی عجیب لگتی ہے کیونکہ ہمارے ہاں گرم اور تازہ کھانوں کا رواج ہے لیکن یہ طریقہ چاول کے اندر موجود نشاستہ کو توڑنے کا عمل کرتاہے جس عمل کے لئے ہمارا جسم زیادہ وقت لیتاہے اور قابل ہضم بناتا ہے ۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اس طریقہ کار کی مددسے 50 سے60 فیصد چاول میں موجود کیلوریز کم ہو سکتی ہیں۔چاول کو ٹھنڈاکرنے کا وقت بارہ گھنٹے ہے ۔
اگر آپ ذیابیطس اور وزن کے مسائل سے دوچار ہیں تو یہ تکنیک آپکے چاول کھانے کے شوق کو پوراکرنے لئے مددگار ثابت ہوگی۔