خون میں شکر کی مقدارمتوازن رکھنے کے لیے تین بنیادی اصول اپنانا ضروری ہیں۔

متوازن طرزِزندگی

باقاعدگی سےادویہ کا استعمال

پرہیزاور ورزش

  جب کہ کھانے پینے میں احتیاط بھی لازم ہے۔

کھانے میں چکنائی کی مقدار کم سے کم ہو

 میٹھی اشیاء مثلاً شکر، گُڑ، شہد، مٹھائی، جام، جیلی، کیک، پیسٹری، نان خطائی، بسکٹ، چاکلیٹ، کولڈ ڈرنک، پھلوں کے رس، گنے یا گنڈیری، کھجور، انجیر، کشمش، آئس کریم، شربت اور پڈنگ وغیرہ کے استعمال سے پرہیز کیا جائے

احتیاط کریں

جب کہ روٹی، ڈبل روٹی، بیسن سے بنی روٹی، دلیا، دالیں، بُھنے ہوئے چنے، تربوز، کینو، مالٹا، جامن، خوبانی، آڑو، پپیتا، سیب، خربوزہ، کیلا، آلو بخارا، فالسے، امرود، مرغی، بغیر چربی کا گوشت، مچھلی، انڈے، پنیر، بغیر بالائی کے دودھ، دہی اور لسّی،کھانے کا تیل، مارجرین، شکرقندی، گاجر، اروی، آلو، مکئی، پھلیاں اورمٹر وغیرہ احتیاط سے استعمال کرسکتے ہیں

حسبِ ضرورت استعمال کریں

 جب کہ بھنڈی، پھول گوبھی، کدّو، پالک، ساگ، ہرے پتّوں والی سبزیاں، ہری مرچ، توری، سلاد، کریلا، لیموں

 مولی، پیاز، بینگن، ککڑی، کھیرا، چقندر، شلجم، ٹماٹر، انڈے کی سفیدی، بغیر شکرمشروبات، چائے اور کافی بغیر ڈر وخوف کے حسبِ ضرورت استعمال کیے جاسکتے ہیں۔

ہر کھانے میں نشاستے کی اچھی خاصی مقدار لازماً شامل ہو،کیوں کہ یہ فوری توانائی پیدا کرنے کا بہترین ماخذ ہیں۔