ذیابطیس کی پیچیدگیاں اعضائے رئیسہ اور مختلف جسمانی نظام کو متاثر کرسکتی ہیں۔ مثلاً اگر یہ مرض آنکھوں کو متاثر کرے، تو پیچیدگیاں، بینائی میں کم زوری، دھندلاہٹ، اندھےپن اور آنکھ کے اندرونی پردے کے عوارض کی شکل میں ظاہر ہوتی ہیں۔دِل اور شریانوں پر ذیابطیس کے اثرات دِل کے دورے، انجائنا، بُلند فشارِخون اور فالج کی صورت ظاہر ہوتے ہیں۔ یہ مرض گُردوں کے افعال میں بھی خرابی کا سبب بن جاتا ہے۔انتہائی حالات میں بعض مریضوں کے گُردے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور تاحیات ڈائی لیسسز یا پھر گُردوں کی پیوند کاری کی جاتی ہے۔ ذیابطیس کے مریضوں میں پاؤں کے امراض اور ان کی پیچیدگیوں کے امکانات زیادہ پائے جاتے ہیں کہ اعصابی نظام میں خلل کے باعث پاؤں سُن ہو جاتے ہیں اور گرم، سرد اورچوٹ لگنے کا احساس نہیں ہوتا۔ اس حالت میں کسی قسم کی بھی چوٹ انتہائی خطرناک ثابت ہو سکتی ہے ، کیوں کہ سب سے پہلے انفیکشن پاؤں اور پھر پوری ٹانگ تک پھیل جاتا ہے اوراگر بروقت علاج نہ کروایا جائے، تو پیر یاٹانگ کاٹنے تک کی نوبت آسکتی ہے۔

اس پیچیدگی سے محفوظ رہنے کے لیےپیروں کا خصوصی خیال رکھیں،مناسب جوتا پہنیں،ننگے پیر چلنے سے گریز کریں، پیر سادے پانی سے دھوئیں اور سردیوں میں نیم گرم پانی کا استعمال کریں،پاؤں دھونے یا نہانے کے بعد خشک کرلیں۔ جب کہ ہاتھوں اور پیروں کے ناخن احتیاط سے تراشے جائیں۔اگر پیروں میں کوئی مسئلہ ہو،تو اپنے معالج سے ضرور مشورہ کریںکہ بروقت تشخیص و علاج سے پیر بچائےجاسکتے ہیں۔ اسی طرح اگرجسم کا کوئی حصّہ سُن ہوجائے، پیشاب یا پاخانہ خطا ہونے لگے یا کنٹرول نہ رہے، تو فوری طور پر ماہر معالج سے رابطہ کریں۔یاد رکھیے،اگر مرض پر قابو نہ ہو،کولیسٹرول بڑھا ہو اور بُلند فشارِ خون کی بھی شکایت ہو، تو ذیا بطیس کے مریضوں میں فالج کا خطرہ دیگر افراد کی نسبت کہیں بڑھ جاتا ہے۔