بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کا ایک گروپ پچیس ملین درھم کی تعمیری لاگت سے پاکستان میں پہلا جدید خصوصی چیئرٹی ذیابیطس مرکز ہسپتال قائم کر رھے ہیں۔

ڈاکٹر اسجد حمید، اندوکرانالوجی اور شوگر کے ایک کنسلٹنٹ ہیں ،اپ نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر  وہ کام کیا ہے جسے بہت سے لوگوں نے ‘ایک دیوانے کا خواب’ کہا۔ لیکن کہا جاتا ہے جسے چاہت ہوتی ہے وہ منزل ضرور پالیتا ہے۔ ڈاکٹر اسجد، ایک پاکستانی، اس وقت امپیریل کالج لندن ذیابیطس مرکز ابو ظہبی میں کام کررہے ہیں۔

دسمبر میں ان کا اداراہ جو پاکستان کی سب سے بڑی ذیابیطس چیئرٹی ہے اپنا پہلا خصوصی ذیابیطس مرکز اسلام آباد، پاکستان میں پچیس ملین درھم  کی تعمیری لاگت سے کھولیں گے ۔ انہوں نے خلیج ٹائمز کو بتایا کہ “یہ میرے لیئے افسوسناک بات ہے کہ  بہت بڑی پاکستانی آبادی  جو زیادہ تر غریب طبقے سے ہیں اور جو علاج کے اخراجات برداشت نہیں کرسکتے – ابھی بھی اس مرض کے لئے معیاری علاج تک رسائی سے محروم ہیں” ۔ “وہ کلینکس اور جنرل پریکٹیشنرز سے اپنا علاج کرواتے ہیں مگر پاکستان میں کوئی خصوصی کلینک نہیں جو ایک ہی چھت کے نیچے تمام علاج کی سہولیات فراہم کرسکے”۔

یہ سب تین افراد کے درمیان ایک خیال کے ساتھ شروع ہوا – جب ڈاکٹر اسجد اور دو دوستوں  نے اس خواب کو حاصل کرنے کے لئے اپنے قیمتی سرمائے سےاس فلاحی کام کا آغاز کیا۔ جلد ہی سپانسرشپ پول میں اضافہ ہوا ابتدائی اسلام آباد میں عمارت کی تعمیر شروع کرنے کے لئے ایک ملین درھم کی اشد ضرورت تھی ۔

انہوں نے مزید کہا کہ “لوگوں نے ہمیں جوائن کرنا شروع کیا اور ہم پھر پاکستان کے ساتھامریکہ، برطانیہ اور  امارات ریڈ کریسنٹ متحدہ عرب امارات میں چیئرٹی کے طور پر رجسٹرڈ ہوئے” ۔

انہوں نے مزید کہا کہ “پاکستان میں بہت سے غریب لوگ ہیں جو ابھی تک صحت کے مسائل کے علاج اور ادویات پر پیسے خرچ کرنے پر مجبور ہیں ۔ ڈاکٹر اسجد نے کہا “جب میں متحدہ عرب امارات آیا، اس وقت یہ ملک ذیابیطس کی سب سے زیادہ تعداد کے ساتھ دنیا میں دوسرے درجے پر تھا، لیکن اب یہ صرف آٹھویں یا دسویں نمبر پر ہے” ۔ انہوں نے کہا کہ “یہ سب کچھ اچھے اسکریننگ کے طریقوں کی وجہ سے اور اس کے علاوہ متحدہ عرب امارات کی حکومت کی کوششوں اور ان کے وژن کی وجہ سےممکن ہوسکا ہے ۔ پاکستان میں ہر دسواں شخص ذیابیطس کی بیماری میں مبتلا ہے اور یہ  اعداد و شمار پرانے ڈیٹا سے ہیں ۔ ہندوستان میں تحقیق ظاہر کرتا ہے کہ یہ مرض ملک بھر میں بیس فی صد لوگوں میں ہے”، انہوں نے مزید کہا “ہم ان سے مختلف نہیں ہیں”

“علم اور تعلیم کی سطح بہت کم ہے ۔ لوگ نہیں جانتے علاج کے لئے کہاں جائیں اس وجہ سے بہت سے ذیابیطس کے مریض اس بیماری کے ساتھ ساتھ  گردے کی ناکامی اور  آنکھوں کے مسائل میں بھی مبتلا ہوگئے ہیں”۔ انہوں نے جذباتی لہجے میں کہا ۔ “یہی سب مسئلے ہیں جس نے ہمیں سوچنے پر مجبور کیا” ۔

ذیابیطس مرکز پاکستان کا پہلا منصوبہ ہے جو متحدہ عرب امارات ریڈ کریسنٹ کے ساتھ  رجسٹرڈ ہے ۔ “وہ متحدہ عرب امارات میں ہمارے ڈونیشن ٹکٹ بھی فروخت کرتے ہیں”۔  متحدہ عرب امارات میں آنے والے ڈاکٹر اسجد نے کہا کہ ” متحدہ عرب امارات میں مقیم  تقریبا ساٹھ پاکستانی خاندان اور چند اماراتی شخصیات  اس منصوبے کی مالی حمایت کر رہے ہیں ۔ پانچ منزلہ عمارت ، دسمبر تک تیار ہو کر روزانہ سات سو سے ہزار کے درمیان مریضوں کوعلاج فراھم کرنے کے قابل ہو جائے گی” ۔ ڈاکٹر اسجد کی اہلیہ، جو خود ڈاکٹر ہیں، پہلے ہی متحدہ عرب امارات سے اپنی ملازمت چھوڑ کر پاکستان منتقل ہوگئی ہیں تاکہ اسپتال کی جلدازجلد تعمیر اور اس کی روزانہ کے امور میں مدد دے سکیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ “جون میں ایک اور مرکز کا لاہور میں بھی افتتاح کیا جائے گا اس کے ساتھ ساتھ اس منصوبے کو بعد میں کراچی اور دوسرے شہروں میں بھی توسیع دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے”جس کےلئے مخیر حضرات سے تعاون کی درخواست ہے۔

آرٹیکل دیکھنے کے لئے لنک پر کلک کریں

http://www.khaleejtimes.com/nation/doctor-all-set-to-give-back-to-his-nation