صرف تین کام کریں اور شوگر کنٹرول کرلیں

 ادویہ کا باقاعدگی سے استعمال 
متوازن غذا کا استعمال
ورزش کی اہمیت

 ادویہ کا باقاعدگی سے استعمال 

 
معالج طرزِ زندگی تبدیل کرنے، خوراک اور ادویہ کے ضمن میں جو تجویز کرے، اس پر سختی سے عمل بھی کیا جائے۔
 عموماً ہوتا یہ ہے کہ مریض ادویہ باقاعدگی سے استعمال کرتے ہیں، لیکن نہ تو متوازن غذا کا استعمال کیا جاتا ہے اور نہ ہی طرزِ زندگی میں تبدیلی لائی جاتی ہے۔ سو، وہ افراد، جو ذیابطیس میں مبتلا ہیں، یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ صرف ادویہ کے استعمال سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہو سکتے ہیں۔ اس ضمن میں طرزِ زندگی میں تبدیلی لانے کے ساتھ ماہر اغذیہ کی ہدایات کے مطابق متوازن غذا کا استعمال ناگزیر ہے۔

متوازن غذا کا استعمال

زیابیطس میں کیا کھائیں کہ شکر کنٹرول رہے؟

علاوہ ازیں، ایسے مشروبات کا استعمال بھی ترک کر دیا جائے، جن میں زیادہ مٹھاس اور کاربن ڈائی آکسائڈ پائی جاتی ہے۔ ان میں کولا مشروبات سرِفہرست ہیں۔ ان کی بجائے سادہ پانی، بغیر چینی کی چائے یا کافی کا استعمال زیادہ بہتر ہے۔
کھانا معمول سے کم کھائیں،دو وقت کھانے کی بجائے اگرچار سے چھےوقت کھائیں، تو مرض پر خاصا کنٹرول رہتا ہے۔
سفید آٹے اور چاول کی نسبت بغیر چھنا آٹا یا جَو اور بیسن کا آٹا زیادہ فائدہ مند ہے۔ چربی والا گوشت ہرگز استعمال نہ کریں، مرغی، مچھلی، دالیں، گِری والے میوہ جات، سبزیوں اور پھلوں کو اپنی خوراک کا حصّہ بنائیں۔

کیا گڑ زیابیطس کے مریض کھا سکتے ہیں ؟

صرف مٹھاس سے پرہیز ہی کافی نہیں، بلکہ تیل و چکنائی والی اشیاء مثلاً بیکری مصنوعات، نیز، مکھن اور زیادہ مقدار میں روغنیات کا استعمال بھی سخت نقصان دہ ہے۔

ورزش کی اہمیت

آفس میں بیٹھے بیٹھےاپنی فٹنس کو بحال رکھیں

ذیابطیس کے علاج کے سلسلے میں ورزش کی اہمیت سے بھی انکار ممکن نہیں کہ یہ علاج کا ناگزیر حصّہ ہے۔ عمومی حالات کے تحت چہل قدمی سب سے اچھی ورزش ہے۔
تاہم، اس ضمن میں معالج کے مشورے کو فوقیت دی جائے، کیوں کہ اگر خود سے کوئی ایسی ورزش شروع کردی گئی، جس کے نتیجے میں خون میں شکر کم ہو گئی، تو مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
جب کہ سیلف میڈی کیشن سے حتی الامکان گریز بھی ضروری ہے۔ اپنی مرضی سے ادویہ کا انتخاب یا ان میں ردّوبدل قطعاً نہ کریں۔ نیز، اپنے معالج کے علاوہ کسی اور کے کہنے پر کوئی بھی دوا یا دیسی ٹوٹکا استعمال نہ کریں۔
 یاد رکھیے، تھوڑی سی احتیاط اور دیکھ بھال سے کئی خطرات کو با آسانی کم کیا جا سکتا ہے۔