پری ذیابیطس
ذیابیطس ہو جانے سے پہلے مریضوں کو پری ذیابیطس ہوتی ہے۔ پری ذیابیطس میں خون میں شوگر کی مقدار بڑھنے لگتی ہے مگر ابھی اتنی زیادہ نہیں ہوئی کہ ذیابیطس تشخیص کی جائے۔ اگر سوچا جائے تو یہ ایک اچھا موقع ہے جس میں احتیاط شروع کر دیا جائے تو ذیابیطس سے بچا جا سکتا ہے۔ تمام دنیا میں پری ذیابیطس تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انڈیا، پاکستان اور چین میں ان مریضوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ذیابیطس ایک سنجیدہ بیماری ہے اور اس کے منفی اثرات پری ذیابیطس سے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس سطح پر چونکہ کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں اس لیے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ انہیں پری ذیابیطس ہے۔

پری ذیابیطس کیسے تشخیص کرتے ہیں؟
بلکل اسی طرح جیسے ذیابیطس تشخیص کی جاتی ہے پری ذیابیطس کو بھی خون کے ٹیسٹ سے تشخیص کیا جاتا ہے۔ ان ٹیسٹوں میں اے-ون-سی، خالی پیٹ خون میں شوگر کا ٹیسٹ اور گلوکوز کو برداشت کرنے والا ٹیسٹ شامل ہیں۔اس ٹیسٹ کو ایچ اے ون سی  کہتے ہیں

اے-ون-سی

آٹھ گھنٹے خالی پیٹ ہونے کے بعد خون میں شوگر کا ٹیسٹ

پری ذیابیطس کا علاج
پری ذیابیطس کے وقتی علاج سے ذیابیطس سے بچ سکتے ہیں۔ کھانے پینے میں احتیاط ، باقاعدگی سے ورزش اور دوائیوں کے استعمال سے یہ بیماری درست ہو سکتی ہے۔ پانچ سے دس فیصد وزن میں کمی کرنے سے آپ اس بیماری کو بہتر کر سکتے ہیں۔

کن لوگوں کو پری ذیابیطس کا ٹیسٹ کروانا چاہئے؟
ایسے تمام مریض جن کو ذیابیطس ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو ان کو پری ذیابیطس کا ٹیسٹ کروانا چاہیے۔ ان میں وہ لوگ شامل ہیں جن کی عمر پینتالیس سے زیادہ ہو، ان کے خاندان میں اور لوگوں کو ذیابیطس ہو، ایسی خواتین جن کو حمل کے دوران ذیابیطس ہو گئی ہو، ایسے مریض جن کو ہائ بلڈ پریشر یا کولیسٹرول کے زیادہ ہونے کی شکایت ہو اور وہ جن کو دل کی بیماری ہو۔
آخر میں ہم یہی کہیں گے کہ پری ذیابیطس کا نام سن کر آپ ہمت نہ ہاریں۔ یہ ایک نہایت قیمتی موقع ہے جس کے علاج اور احتیاط سے آپ ذیابیطس سے بچ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ذیابیطس کی بیماری کو کچھ سال ہو جائیں تو اس کو مینیج تو کر سکتے ہیں لیکن اس سے چھٹکارا نہیں پایا جا سکتا۔ لاکھوں افراد کو پری ذیابیطس کا مرض لاحق ہے اور وہ اس سے لاعلم ہیں۔