ذیابیطس اور پری ذیابیطس کے بارے میں معلوماتی مضمون

ذیابیطس

ذیابیطس ایک سنجیدہ بیماری ہے اور اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کرنا نہایت اہم ہے۔ اردو دنیا کی بڑی زبانوں میں سے ایک ہے اور ہم توقع کرتے ہیں کہ ذیابیطس کے اردو سمجھنے والے مریض اس ویب سا ئٹ سے فائدہ حاصل کریں گے۔

ذیابیطس کی تاریخ

ذیابیطس کا زکر ہزاروں سال پرانی کتابوں میں موجود ہے۔ کچھ اطباء نے اسے گوشت گھلانے والی بیماری کے نام سے پکارا۔ بیسویں صدی سے قبل ذیابیطس کا علاج دریافت نہیں ہوا تھا اور یہ مریض بہت تکلیف اٹھانے کے بعد چل بستے تھے۔ 1921 میں انسولین کی دریافت ہوئی جس سے ذیابیطس کے مریضوں میں موت کی شرح کم ہو گئ۔

ذیابیطس کی تعریف

ذیابیطس ایک ایسی بیماری ہے جس میں خون میں موجود شوگر کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔

ذیابیطس کی کتنی اقسام ہیں؟

ذیابیطس کی دو اقسام ہیں۔ پہلی قسم کی ذیابیطس اور دوسرے قسم کی ذیابیطس۔ پہلی قسم کی ذیابیطس میں انسولین سرے سے موجود نہیں ہوتی جبکہ دوسری قسم کی ذیابیطس اس انسولین کے خلاف مزاہمت پیدا ہو جانے کی وجہ سے ہو جاتی ہے۔

انسولین کیا ہے؟

انسولین ایک ہارمون ہے جو لبلبے میں پیدا ہوتی ہے۔ انسولین کی مثال ایک چابی کی سی ہے جو گلوکوز کو خلیوں کے اندر داخل ہونے میں مدد دیتی ہے۔

پہلی قسم کی ذیابیطس کیسے ہو جاتی ہے؟

پہلی قسم کی ذیابیطس کی وجوہات میں وائرس یا جسم کے مدافعتی عمل سے متاثر شدہ لبلبہ شامل ہیں۔

دوسری قسم کی ذیابیطس

ذیابیطس کے نوے فیصد مریضوں میں دوسری قسم کی ذیابیطس پائی جاتی ہے۔ دوسری قسم کی ذیابیطس کی وجوہات میں فربہی اور دیگر جینیائ عوامل شامل ہیں۔

ذیابیطس کی علامات

ذیابیطس کی عموما” علامات میں بار بار بھوک لگنا، زیادہ پیشاب آنا اور پیاس لگنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ یہ مریض کمزوری اور تھکاوٹ کی شکایت بھی کرتے ہیں۔

ذیابیطس کی پیچیدگیاں

ذیابیطس خون کی چھوٹی اور بڑی نالیوں کو متاثر کرتی ہے۔ ذیابیطس کی پیچیدگیوں میں اندھا پن، گردوں کا ناکارہ ہونا، پیروں میں بے حسی پیدا ہو جانا اور دل اور دماغ کی بیماریاں شامل ہیں۔

ذیابیطس کو کیسے تشخیص کیا جاتا ہے؟

ذیابیطس کو باآسانی ایک خون کے ٹیسٹ سے تشخیص کیا جا سکتا ہے۔

پری ذیابیطس

ذیابیطس ہو جانے سے پہلے مریضوں کو پری ذیابیطس ہوتی ہے۔ پری ذیابیطس میں خون میں شوگر کی مقدار بڑھنے لگتی ہے مگر ابھی اتنی زیادہ نہیں ہوئی کہ ذیابیطس تشخیص کی جائے۔ اگر سوچا جائے تو یہ ایک اچھا موقع ہے جس میں علاج شروع کر دیا جائے تو ذیابیطس سے بچا جا سکتا ہے۔ تمام دنیا میں پری ذیابیطس تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ انڈیا، پاکستان اور چین میں ان مریضوں کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ ذیابیطس ایک سنجیدہ بیماری ہے اور اس کے منفی اثرات پری ذیابیطس سے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس سطح پر چونکہ کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں اس لیے لوگوں کو پتہ نہیں چلتا کہ انہیں پری ذیابیطس ہے۔

پری ذیابیطس کیسے تشخیص کرتے ہیں؟

بلکل اسی طرح جیسے ذیابیطس تشخیص کی جاتی ہے پری ذیابیطس کو بھی خون کے ٹیسٹ سے تشخیص کیا جاتا ہے۔ ان ٹیسٹوں میں اے-ون-سی، خالی پیٹ خون میں شوگر کا ٹیسٹ اور گلوکوز کو برداشت کرنے والا ٹیسٹ شامل ہیں۔

اے-ون-سی

 پانچ سے سات فیصد سے کم –نارمل

پانچ سے سات فیصد سے چار سے چھ فیصد تک – پری ذیابیطس

پانچ سے چھ فیصد — ذیابیطس

آٹھ گھنٹے خالی پیٹ ہونے کے بعد خون میں شوگر کا ٹیسٹ

سو ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم- نارمل

سوملی گرام سے ایک سو چھبیس ملی گرام – پری ذیابیطس

ایک سو چھبیس ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ دو مختلف موقعوں پر – ذیابیطس

دو گھنٹے والا منہ کے زریعے گلوکوز برداشت کرنے والا ٹیسٹ

ایک سو چالیس ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے کم- نارمل

ایک سو چالیس سے دو سو ملی گرام فی ڈیسی لیٹر – پری ذیابیطس

دو ملی گرام فی ڈیسی لیٹر سے زیادہ- ذیابیطس

پری ذیابیطس کا علاج

پری ذیابیطس کے وقتی علاج سے ذیابیطس سے بچ سکتے ہیں۔ کھانے پینے میں احتیاط ، باقاعدگی سے ورزش اور دوائیوں کے استعمال سے یہ بیماری درست ہو سکتی ہے۔ پانچ سے دس فیصد وزن میں کمی کرنے سے آپ اس بیماری کو بہتر کر سکتے ہیں۔

کن لوگوں کو پری ذیابیطس کا ٹیسٹ کروانا چاہئے؟

ایسے تمام مریض جن کو ذیابیطس ہو جانے کا خطرہ لاحق ہو ان کو پری ذیابیطس کا ٹیسٹ کروانا چاہیے۔ ان میں وہ لوگ شامل ہیں جن کی عمر پینتالیس سے زیادہ ہو، ان کے خاندان میں اور لوگوں کو ذیابیطس ہو، ایسی خواتین جن کو حمل کے دوران ذیابیطس ہو گئی ہو، ایسے مریض جن کو ہائ بلڈ پریشر یا کولیسٹرول کے زیادہ ہونے کی شکایت ہو اور وہ جن کو دل کی بیماری ہو۔

آخر میں ہم یہی کہیں گے کہ پری ذیابیطس کا نام سن کر آپ ہمت نہ ہاریں۔ یہ ایک نہایت قیمتی موقع ہے جس کے علاج سے آپ ذیابیطس سے بچ سکتے ہیں۔ یاد رہے کہ ذیابیطس کی بیماری کو کچھ سال ہو جائیں تو اس  کو مینیج تو کر سکتے ہیں لیکن اس سے چھٹکارا نہیں پایا جا سکتا۔ لاکھوں افراد کو پری ذیابیطس کا مرض لاحق ہے اور وہ اس سے لاعلم ہیں۔